دلچسپ و عجیب

مونچھوں اور پلکوں میں مناظرہ

کچھ لوگوں نے اپنی مونچھیں بڑھائی ہوئی ہوتی ہیں۔ جو مونچھیں منہ کے اوپر ہوتی ہیں ان کو اچھی طرح سے کاٹنا چاہیے اور جو کناروں پر ہوتی ہیں ان کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہ مونچھیں اٹھی ہوئی ہوتی ہیں اور پلکیں جھکی ہوئی ہوتی ہیں۔ ایک مرتبہ مونچھوں اور پلکوں میں مناظرہ ہو گیا۔مونچھیں کہنے لگیں: ہم اعلیٰ ہیں۔ گویا انہوں نے بڑائی کا دعویٰ کر دیا۔چنانچہ جیسے وہ دعویٰ کرتی گئیں، پلکیں ان کا جواب دیتی گئیں، بالآخر مونچھوں نے کہا: دیکھو! انسان اپنی شان دکھانے کے لیے مجھے تاؤ دیتا ہے۔ جب ایک دوسرے کے سامنے اپنی جب ایک دوسرے کے سامنے اپنی بڑائی ظاہر کرنا ہو تویہ دنیا دار قسم کے لوگ اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہیں۔۔۔ گویا مونچھوں نے کہا: انسان کی شان ہم سے ہے۔پلکوں نے جواب دیا: جناب! جب ادب اور تعظیم کا
اور تعظیم کا وقت آتا ہے تو وہاں پلکوں کا نام آتا ہے۔۔۔ ذرا بتائیں کہ جب ادب اور تعظیم کا وقت آتا ہے تو کیا کوئی یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنی مونچھیں نیچی کر دیں؟ ہر کوئی پلکیں بچھانے کی بات کرتا ہے۔اے بادِ صبا! کچھ تو ہی بتا مہمان جو آنے والے ہیں۔کلیاں نہ بچھانا راہوں میں ہم پلکیں بچھانے والے ہیں۔مونچھوں نے کہا: جناب! جوانی کی معرفت ہم سے ہے۔ جوانی کی پہچان ہم سے ہے۔ پلکوں نے کہا: جی! قینچی بھی تو تم پر ہی چلائی جاتی ہے، تمہیں ہی کاٹا جاتا ہے۔ مونچھوں نے کہا: دیکھو! لوگ ہمیں بنا سنوار کر رکھتے ہیں، یعنی وہ بل دے کر رکھتے ہیں۔پلکوں نے کہا: جب انسان کی ناک بہتی ہے تو پھر تمہارے ہی اوپر گرا کرتی ہے۔ تو مونچھوں کو بڑا بننے کی یہ سزا ملی، دیکھو ! کیسی سزا دی اللہ نے۔ ناک صاف کرنے لگو تو مونچھ والوں کی مونچھوں پہ لگ جاتی ہے۔ مومن کو تو صاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے اس کو تو کوئی پرواہ نہیں ہوتی لیکن جو بے چارے رکھتے ہیں ان کو بڑی پریشانی ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Urdu Empire