کہانیاں

فاختہ اور کسان

ایک دفعہ ایک فاختہ درخت پر بیٹھی گیت گا رہی تھی اور دھوپ کے مزے لے رہی تھی کہ اس نے جنگل میں ایک کسان آتے دیکھا۔ وہ ٹھٹک گئی اور کسان کو روک کر اس سے پوچھا کہ اس کے ہاتھ میں تھامے ہوئے ڈبے میں کیا بند تھا؟ کسان رکا اور فاختہ کو بتایا کہ اس ڈبے کے اندر کیچوے ہیں اور میں بازار کی طرف جارہا ہوں۔ میں یہ کیچوے ادھر جا کر بیچ دوں گا۔ مجھے کچھ پر چاہیے ہیں۔ میں ایک ایسا کام کر رہا ہوں جس کے لیے مجھے پرندوں کے پر درکار ہیں۔ وہ بولا کہ میں چلتا ہوں ورنہ لیٹ ہو جاؤں گا۔ فاختہ اڑ کر اس کے پیچھے دوسرے درخت پر جا بیٹھی اور اسے پھر سے آواز لگائی کہ رکو۔میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔ کسان رکا اور فاختہ سے آئیڈیاپوچھا۔
ے آئیڈیاپوچھا۔ وہ بولی کہ میں پورا دن ادھر ادھر اڑ اڑ کر اپنے لیے کیچوے تلاش کرتی ہوں میں تھک جاتی ہوں۔
تم مجھے کچھ کیچوے دے دو۔ میں تمہیں اپنا ایک پر اتار کر دے دوں گی۔ کسان نے سوچا اور خوش ہو گیا کہ چلو آئندہ اتنا دور چل کر جانا بھی نہیں پڑے گا اور اس فاختہ سے آکر پر لے جایا کروں گا ۔ وہ ہر دوسرے دن جنگل جاتا اور فاختہ کو کیچوے دے دیتا اور اس سے اس کا ایک پر لے جاتا۔ فاختہ نے ایک سال بہت سکون سے گزار لیا۔ ایک دن کسان آیا تو فاختہ کے پاس آخری پر بچا تھا۔ اس نے وہ دیا اور کیچوے کا ڈبہ لے کر مزے سے کھانے میں مصروف ہو گئی۔ کسان نے اسے بولا کہ تمہارے پر ختم ہو گئے ہیں۔کل سے میں بازار سے جا کر پر لاؤں گا، تم اپنا بندوبست کر لو۔ فاختہ کو یک دم شدید صدمہ لگا۔ اس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ اس نے خود پر نظر ڈالی تو اس کے بدن پر ایک بھی پر نہیں تھا، وہ بہت بد صورت لگ رہی تھی۔
اس کی بد صورتی تو الگ مسئلہ تھی، اس پر حقیقت فاش ہوئی کہ پروں کے بغیر تو وہ اڑ بھی نہیں سکتی تھی۔ پورا سال اس نے ایک ہی پیڑ پر بیٹھ کر عیاشی کی زندگی گزاری تھی لیکن اب وہ اس قابل بھی نہیں بچی تھی کہ اڑ کر کیچوے پکڑ سکے۔ وہ کچھ دن بھوک سے تڑپتی رہی اور پھر مر گئی۔ حاصل سبق یہ ہے کہ اکثر ہمیں کچھ راستے آسان لگتے ہیں اور ہم ان کو چن لیتے ہیں۔ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ مستقبل میں کیا بنے گا۔ اسی فاختہ کی طرح بہت سے لوگ اپنی زندگی میں جلدی ترقی کے خواہاں ہوتے ہیں اور اس کے لیے شارٹ کٹ لگانے کا سوچتے ہیں مگر اس سے ان کا وقت اور توانائی دونوں برباد ہوتے رہتے ہیں۔ فاختہ کی طرح جب ہم ہوش میں آتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ دونوں ہاتھ خالی ہیں۔ انسان کو فارغ بیٹھنے اور عیاشی کے لیے خلیفہ نہیں بنایا گیا بلکہ اس کا مقصد حیات تو دنیا کو مسخر کر کے باقی سب کے لیے بھی آسرہ مہیا کرنا ہے تو ہم بھلا کیسے آرام سے بیٹھ کر کھا پی سکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ کسی نئے بزنس یا کسی نئے پلان سے عیاشی کرنے کا فیصلہ کریں پلیز سوچیں کہ مستقبل میں کیا بنے گا اور اپنے تمام فیصلے کرتے ہوئے یاد رکھیں کہ محنت بن کچھ ہاتھ نہ آئے۔۔ہاتھ آئے ناداری۔۔۔محنت ایسا جادو جس سے ریت بنے پھلواری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Urdu Empire