تمہیں خدا نظر آرہا ہے کیا؟

0
654

نرسری کی ایک میڈم نے ایک بچے کو کھڑا کیا اور اس سے پوچھا کہ کھڑکی سے باہر دیکھ کر بتاؤ کہ باہر درخت ہیں؟ اس بچے نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا اور بولا کہ ہاں میڈم ہیں۔ اس کی میڈم نے ساری کلاس کو مخاطب کر کے بولا کہ آپ لوگ سمجھے؟ درخت اصل میں ہوتے ہیں۔پھر اس نے اسی لڑکے کو بولی کہ باہر دیکھ کر بتاؤ کہ مٹی ہے؟ اس بچے نے کھڑکی سے باہر دیکھ کر بتایا کہ ہاں میڈم باہر مٹی ہے۔ ٹیچر نے کلاس کو سمجھایا کہ مٹی بھی اصل میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ میڈم نے لڑکے کو بولا کہ شاباش بیٹے باہر دیکھ کر بتاؤ کہ نیلا آسمان ہے؟ لڑکے نے باہر جھانکا اور اثبات میں جواب دیا۔ میڈم نے اپنی کلاس کو بولا کہ دیکھا آپ لوگوں نے آسمان بھی ہوتا ہے۔ پھر لڑکے کو بولا کہ آخری بار باہر دیکھو اور بتاؤ کہ خدا ہے؟

لڑکے نے کھڑکی سے جھانکا اور بولا کہ میڈم مجھے تو نظر نہیں آرہا۔ میڈم خود ایک ایتھیسٹ تھی جن کا کسی خدا پر یقین نہیں ہوتا، اس نے بچوں کو بولا کہ آپ لوگ خدا کو نہیں دیکھ سکتے تو خدا نہیں ہوتا ہے۔ اتنے میں ایک بچی اٹھی اور میڈم سے کہا کہ میں نے بھی اس بچے سے کچھ پوچھنا ہے میں پوچھ لوں؟ میڈم نے اجازت دے دی۔ بچی نے پوچھا کہ پھر باہر دیکھ کر بتاؤ کہ درخت ہیں؟ بچہ تنگ آگیا تھا جلدی سے بولا ہاں۔ بچی نے پوچھا مٹی ہے؟ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ بچی نے پوچھا نیلا آسمان ہے؟ اس نے باہر دیکھا اور بولا ہاں ہاں ہاں۔ بچی نے پوچھا سامنے کلاس میں میڈم ہیں؟ بچے نے دیکھا اور بولا کہ ہاں ہیں۔ میڈم بچی کو دیکھ رہی تھی اور اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرنا چاہ رہی تھی۔بچی نے بچے سے پوچھا کہ آخری بات بتاؤ کہ میڈم کا دماغ تمہیں نظر آرہا ہے؟ بچے نے میڈم کو پھر سے دیکھا اور بولا کہ نہیں۔۔مجھے ان کا دماغ نظر نہیں آرہا۔

بچی نے بولا میڈم اگر ہم اسے دیکھ نہیں سکتے تو آپ نے آج کی کلاس میں ہمیں یہی سکھایا ہے کہ جو چیز نظر نہیں آتی اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا ۔ اور اس لحاظ سے آپ کا دماغ بھی اصل میں نہیں ہے۔ حاصل سبق انسان کچھ بھی سوچ اور سمجھ سکتا ہے ۔ سب کو آزادی ہے کہ اپنا عقیدہ اپنی مرضی سے چن سکتے ہیں اور جس چیز پر چاہیں اعتقاد رکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر اتنی سی بات جو ایک پانچ سے چھے سال کے بچوں کو سمجھ آسکتی ہے کہ اگر کوئی چیز دکھائی نہ دے تو بھی اپنا وجود قائم رکھتی ہے، تو جب انسان بہت زیادہ پڑھ لکھ جاتا ہے تو وہ کیسے خود کو ایتھیسٹ بنا سکتا ہے۔ دنیا کے سب سے ذہین، فطین اور کامیاب لوگوں نے زیادہ تر ایتھیسٹ ہونے کو ترجیح دی ہے کیونکہ ان کے اندر گھمنڈ پیدا ہو جاتاہے۔ اپنی کامیابیوں کا نشہ ان کے سر چڑھ کر بولتا ہے لیکن کوئی بچہ یا جانور دیکھو تو وہ معصوم ہوتے ہیں اور فطرت کے انتہائی قریب ہوتے ہیں۔ حقیقت تو سب کو معلوم ہی ہے کہ خدا ہوتا ہے یا نہیں؟

SHARE
loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here