قدرت اپنا حساب ضرور پورا کرتی ہے

0
503

سزائے موت کی کال کوٹھری تھی‘ خوفناک سناٹا تھا، زیرو وولٹ کا بلب گھپ اندھیرے کو تھوڑا سا روشن بنا رہا تھا۔ پانچ بائی پانچ فٹ کا چھوٹا سا خانہ اس کو، قبر سے بھی زیادہ تنگ لگ رہا تھا۔باہر شاید بارش ہو رہی ہے‘اس کے پتھرائے ہوئے دماغ میں خیال گزراکیونکہ بادلوں کی ہلکی ہلکی گرج خوفناک سناٹے کو چیر رہی تھی لیکن انکی چمک، بارش کی ہلکی پھوہار اور ٹھنڈی ہوا کے تازہ ترین جھونکوں سے وہ محروم تھا۔ آج اسے محسوس ہوا کہ بارش کتنی بڑی نعمت ہے۔کال کوٹھڑی کا کھانا بھی تو آج رات نہ آسکا، پتہ نہیں کیا ہوا تھا۔؟ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک آواز آئی، آج رات کھانا نہیں ملے گا، شدید بارش کی وجہ سے گاڑی کہیں پھنس کے رہ گئی ہے۔۔!! جیل کے سنتری نے فولادی دروازے پر لگی چھوٹی سی کھڑکی کھول کر اسے بتا دیا اور فوراً کھڑکی بند کر دی۔اسکو کھانا نہ

ملنے کا کوئی غم نہیں تا لیکن پانچ دن بعد ایک انسانی آواز جو اس سے مخاطب تھی، اسکے سننے کی خوشی تھی کیونکہ اکثر وارڈن بغیر کچھ کہے کھانا آہنی دروازے کے نیچے سے سِرکا دیتا تھا۔بھائی میری بات تو سنو۔۔۔! وہ تڑپ کر اٹھا، میرے سے دو باتیں تو کر لو۔۔! لیکن کال کوٹھڑی کا وارڈن کب کا جا چکا تھا، پھر سے بس ایک وہ تھا،اسکی تنہائی تھی اور وہ کال کوٹھڑی تھی۔ آنسووں کی لڑی نجانے کب سے بہہ رہی تھی اور رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔یا اللہ! میں سزائے موت کا مجرم کیسے بنا۔۔؟ اپنے رب سے اسکا ایک ہی سوال تھا،میں نے تو تیرے بندوں پر کبھی ظلم نہیں کیا تھا، چونسٹھ سال کی عمر کا کمزور آدمی کیسے اور کس کا
قاتل ہو سکتا ہے؟ اے رب ذوالجلال! تو جانتا ہے میں بے گناہ ہوں۔۔۔!! اپنے رب سے باتیں کرتا، نجانے کب نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔

خواب بھی تو اسکو ڈراﺅنے آرہے تھے، کبھی اپنے آپ کو تختہ دار پر جھولتے دیکھتا اور کبھی جلاد کو اپنا چہرہ ڈھانپتے دیکھتا۔ خواب میں اسے اس کے جرم کی حقیقت نظر آئی، کیا دیکھا کہ ہندوستان کی تقسیم ہو رہی ہے، ہندووں کے قافلے بھارت جا رہے ہیں، اور مسلمان پاکستان آ رہے ہیں۔ کشت و خون کی لڑائی جاری ہے، لیکن اسکو کوئی پرواہ نہیں ہے، یہ کڑیل جوان اور مضبوط جسم کا مالک روزانہ گھر سے نکل پڑتا، اور دیکھتا کہ ہندوو¿ں کی چھوڑی ہوئی کسی چیز کو ا±چک لے، ایک آواز آتی ہے‘وہ تیری کمائی کے دن تھے، تو چور جو ٹھہرا تھا اپنے علاقے کا۔۔!!

وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا، یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آواز بہت قریب سے آئی ہے۔ وہ واقعی ایک چور تھا لیکن بعد میں چوری سے تائب ہو کر کوئی کام دھندا شروع کر دیا تھا۔ اسکو یاد آیا کہ ایک ہندو قافلہ اپنی بھینس کو ایک درخت سے باندھ کر چھوڑ گیا تھا کیونکہ بھینس درد زہ کی وجہ سے، بہت آہستہ چل رہی تھی اور قافلے والوں کو جان کا خطرہ تھا، اس لیے وہ بھینس کو چھوڑ گئے تھے۔ جب یہ اس درخت تک پہنچا تو بھینس کا بچہ پیدا ہو چکا تھا اور ابھی چند ہی گھنٹوں کا تھا۔

اس نے بھینس کی رسی درخت سےکھولی اور چلتا بنا۔ بچہ بی ماں کے ساتھ ساتھ ہولیا، اس نے دیکھا کہ بھینس بچے کی وجہ سے آہستہ چل رہی ہے اور مڑ مڑ کراسکے ساتھ ملنے کا انتظار کر رہی ہے۔ اِس چور کو بھینس بیچنے کی جلدی تھی اور بھینس کا بچہ اس میں رکاوٹ تھا، اس نے بندوق نکالی اور بھینس کے بچے پر فائر کر دیا، بچھڑا تڑپ تڑپ کر وہیں مر گیا۔ بھینس نے ایک نظر آسمان کی جانب سر اٹھایا اور پھر جھکا دیا۔ چور نے منڈی لے جا کر بھینس کو بیچ دیا اور سستی سی زرعی زمین لے لی، کھیتی باڑی سے اس کے دن پھر گئے، شادی ہو گئی، بچے ہوگئے، وقت بہت اچھا گزر رہا تھا کہ اچانک گاوں کا ایک بااثر آدمی قتل ہو گیا اور الزام اس پر آگیا، اگرچہ یہ بے قصور تھا۔

اچانک کال کوٹھڑی کا فولادی دروازہ دلخراش چرچراہٹ کے ساتھ کھلا، اس کی سوچوں کا تسلسل یکایک ٹوٹ گیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ اسکی کوٹھڑی میں داخل ہوا اور گرجدار آواز میں بولا ‘میاں تاج دین ولد میاں رحمت دین! کل تمہیں فجر کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے پھانسی دے دی جائے گی، اپنی آخری خواہش بتا دو، آخری کھانا کیا کھانا چاہتے ہو‘ وہ بھی بتا دو، کل تہجد کے وقت وارڈن تمہیں گرم پانی کی بالٹی دے جائے گا، آخری غسل کر لینا اور وارڈن کو اپنے وارثوں کے نام بھی لکھوا دینا جن کے حوالے تمہاری لاش کی جائے گی۔۔!!
تاج دین ہکا بکا رہ گیا، قدرت کے انتقام کی گھڑی آن پہنچی تھی اور اسکواس کے شکوے کا جواب بھی مل چکا تھا کہ کس طرح اس نے ایک کمزور بے کس معصوم جانور کی جان لی تھی، اور اسکی دکھی مظلوم ماں کی آہ آج اسے تختہ دار پر لٹکا رہی تھی۔

پھر وہی خوفناک سناٹا تھا، زیرو وولٹ کا بلب گھپ اندھیرے کو تھوڑا سا روشن بنا رہا تھا۔ پانچ بائی پانچ فٹ کا چھوٹا سا خانہ اسکو، قبر سے بھی زیادہ تنگ لگ رہا تھا۔ باہر سے کبھی کبھی بادلوں کی خوفناک گرج جیل کے سناٹے کو چیرتی ہوئی اس کے سینے میں پیوست ہو رہی تھی اور آنسوو¿ں کی لڑی اس کی آنکھوں سے بہتی چلی جا رہی تھی۔
قدرت اپنا حساب ضرور پورا کرتی ہے‘ اس کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں، کیونکہ یہ دنیا مکافات عمل ہے۔

SHARE
loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here