بدبو

0
1784

بنگلے کے دروازے پر گاڑی رکتے ہی نوکر نے دوڑ لگائی اور مرکزی دروازہ کھول دیا‘ چودھری نے گاڑی باہر کی بند کردی اور اپنے جان سے پیارے کتے ٹائیگر کے ساتھ باہر نکل آئے‘ نوکر نے سلام کیا اور ٹائیگر کی زنجیر تھام لی‘ عابد چودھری نے دروازے کی طرف قدم بڑھایا ہی تھا کہ ایک آواز آئی، “اللہ کے نام پر کچھ دے دو صاحب‘ چودھری نے ایک نظر اس لاغر سے بوڑھے فقیرپر ڈالی اور جیب سے کچھ پیسے نکال کر اس ہتھیلی پر رکھ دیئے‘اللہ بھلا کرے صاحب! اللہ کاروبار میں ترقی دے‘ فقیر نے دعا دی۔ چودھری نے ابھی اگلا قدم اٹھایا ہی تھا کہ فقیر نے پھر صدا لگائی‘صاحب ایک فریاد تھی‘ کوئی پرانا کمبل دے دیں صاحب۔‘سردی بہت ہے اور اوڑھنے کو کوئی گرم کپڑا نہیں میرے پاس۔ فقیر کی یہ بات سن

یہ بات سن کر چودھری کے چہرے پر کرختگی نمایاں ہو گئی۔جو دینا تھادے دیا‘ زیادہ منہ مت کھول اور دفع ہو جا‘ اس نے جواب دیا۔اللہ آپ کو بہت دے گا‘ فقیر نے پھر فریاد کی لیکن چودھری اس کی بات سنے بغیراندر چلا گیا‘فقیر کے قدم مایوسی سے لوٹ گئے‘بلاوے پر آنے والا ڈرائیور اب چودھری کے سامنے کھڑا تھا‘جی مالک؟تم ابھی مارکیٹ جائو اور ٹائیگر کے لیے گرم کپڑے اوراس کے کمرے میں لگانے کے لیے ایک ہیٹر لے آئو‘ آج جب وہ میرے ساتھ واک پر گیا تھا تو سردی محسوس کر رہا تھا۔ یہ کہہ کر اس نے کو پانچ ہزار روپے کا نوٹ دیااوراچھاصاحب کہتا ہوا چلا گیا۔ چودھری ایک مشہور صنعت کار تھا۔ لاہورمیں اس کی دو فلور ملیں تھیں‘ دو بھائیوں میں سے ایک برسر اقتدار جماعت کی طرف سے رکن قومی اسمبلی اور اسٹیل کا مشہور بزنس مین بھی تھا۔ایک روز چودھری گھر کے لان میں بیٹھا اپنی بندوق چیک کر رہا تھا‘ پاس ہی ٹائیگر کھیل رہا تھا۔ بندوق لوڈ تھی‘ اچانک ٹریگر دبنے سے گولی چل گئی اور پاس کھیلتے ٹائیگر کو ٹھنڈا کرگئی‘ چودھری کی تو گویا جان ہی نکل گئی‘ اس نے چیختے ہوئے ملازم کو بلایا اور ٹائیگر کو لے کر ہسپتال پہنچا لیکن وہ مرچکا تھا‘ٹائیگر کے مرنے کی خبر عابد چودھری کے حلقہ احباب میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ چند ہی لمحوں میں گھر پر افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا تھا یہاں تک کہ جب بھائی کو اسمبلی اجلاس کے دوران اس”سانحے“ کی خبر ملی تو وہ اجلاس ادھورا چھوڑ کر لاہور چلا آیا‘ایئرپورٹ

سے وہ سیدھا عابد چودھری کے بنگلے پر پہنچا‘ جونہی گاڑی سے باہر نکلا بدبو کا ایک تیز بھبکا اس کی ناک سے ٹکرایا‘یہ اتنی بدبو کہاں سے آ رہی ہے؟‘ اس نے ڈرائیور سے پوچھا۔ڈرائیور نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں دیکھتا ہوں سر! اور وہ رومال ناک پر رکھ کر جلدی سے بنگلے میں داخل ہوگیا۔ڈرائیور بدبو کا تعاقب کرتے ہوئے اس جھونپڑی تک پہنچ گیا جو چودھری کے بنگلے کی دیوار کے ساتھ بنی ہوئی تھی۔ اس نے گھر آ کر بتایا کہ بدبو اس جھونپڑی کے اندر سے آ رہی ہے۔ ایک آدمی مرا پڑا ہے‘ بوڑھا سا کوئی فقیر ہے‘ بدبو سے لگتا ہے کافی دنوں سے مرا پڑا ہے اور سر! کوئی کپڑا نہیں ہے اس کے بدن پر‘ لگتا ہے سردی سے مر گیا بیچارہ۔

 

SHARE
loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here