غسل میں عورت کن باتوں کا خیال رکهے –

* غسل میں عورت کن باتوں کا خیال رکهے *

سوال: فرض غسل میں عورت کن باتوں کا خاص اہتما م کرے ؟

جواب : فرض غسل میں عورت درج ذیل باتوں کا خاص اہتمام کرے ۔

1۔ غسل طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے اور استنجاء کرے پھر بدن پر کسی جگہ نجاست لگی ہو۔ اسے دھوڈالے ۔ پھر وضو کر لے ۔
2۔ غسل میں تین چیزیں فرض ہیں ۔ 1۔کلی کرنا 2۔ناک میں پانی ڈالنا 3، پورے بدن پر پانی بہانا

3۔ بیٹھ کر نہائیں اس میں پردہ زیادہ ہے ۔

4۔ اگر سر کے بال کھلے ہوں تو سب بالوں کو بھگونا اور جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے ایک بال بھی سوکھا رہ گیا تو غسل نہ ہوگا۔

5۔ نتھ ،بالیوں ، انگوٹھی ۔ اور چھلوں کو تنگ ہونے کی صورت میں خوب ہلائیں تاکہ پانی سوراخوں میں پہنچ جائے ۔

6۔اگر بالیاں نہ پہنی ہوں تو احتیاطا سوراخوں میں پانی ڈال لے ۔
7۔اگر بالوں میں گوند افشان لگی ہو تو دھو ڈالے کیونکہ بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچانا واجب ہے ورنہ غسل نہ ہوگا ۔

8۔اگر ناخن وغیرہ میں آٹا لگ کر سوکھ گیا تو پہلے صاف کرے ورنہ غسل نہ ہوگا ۔

9۔اگر ناخنوں میں نیل پالش لگی ہو تو صاف کرے کیونکہ یہ بدن تک پانی بیچنے نہیں دیتی ۔ورنہ غسل نہ ہوگا۔

“ولو کان شعرۃ المراۃ منقوضا یجب ایصال الماء الی ٰ اثناء ہ ۔” ( ھندیہ :1/ 14) (دارالافتاء جامعہ حفیظ

* غسل میں عورت کن باتوں کا خیال رکهے *

سوال: فرض غسل میں عورت کن باتوں کا خاص اہتما م کرے ؟

جواب : فرض غسل میں عورت درج ذیل باتوں کا خاص اہتمام کرے ۔

1۔ غسل طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے اور استنجاء کرے پھر بدن پر کسی جگہ نجاست لگی ہو۔ اسے دھوڈالے ۔ پھر وضو کر لے ۔
2۔ غسل میں تین چیزیں فرض ہیں ۔ 1۔کلی کرنا 2۔ناک میں پانی ڈالنا 3، پورے بدن پر پانی بہانا

3۔ بیٹھ کر نہائیں اس میں پردہ زیادہ ہے ۔

4۔ اگر سر کے بال کھلے ہوں تو سب بالوں کو بھگونا اور جڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہے ایک بال بھی سوکھا رہ گیا تو غسل نہ ہوگا۔

5۔ نتھ ،بالیوں ، انگوٹھی ۔ اور چھلوں کو تنگ ہونے کی صورت میں خوب ہلائیں تاکہ پانی سوراخوں میں پہنچ جائے ۔

6۔اگر بالیاں نہ پہنی ہوں تو احتیاطا سوراخوں میں پانی ڈال لے ۔
7۔اگر بالوں میں گوند افشان لگی ہو تو دھو ڈالے کیونکہ بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچانا واجب ہے ورنہ غسل نہ ہوگا ۔

8۔اگر ناخن وغیرہ میں آٹا لگ کر سوکھ گیا تو پہلے صاف کرے ورنہ غسل نہ ہوگا ۔

9۔اگر ناخنوں میں نیل پالش لگی ہو تو صاف کرے کیونکہ یہ بدن تک پانی بیچنے نہیں دیتی ۔ورنہ غسل نہ ہوگا۔

“ولو کان شعرۃ المراۃ منقوضا یجب ایصال الماء الی ٰ اثناء ہ ۔” ( ھندیہ :1/ 14) (دارالافتاء جامعہ حفی