ہلدی میں پوشیدہ چھ امراض کا علاج

زرد رنگ، ذائقے میں تلخ جڑی بوٹی ہلدی کی افادیت و خصوصیات لاتعداد ہیں۔ یہ عام طور پر گرم اور خشک تصور کی جاتی ہے۔ ایشیائی ممالک میں اس کا استعمال بہت عام ہے۔ البتہ اس کی کرشماتی طاقت کے بارے میں جاننے کے بعد مغرب میں بھی کھانوں میں اس کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ اسے اکثر مرچوں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔

امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق ہلدی میں لاتعداد اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل اوراینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ سوزش اور جینیاتی بیماریوں کے لیے بھی مفید ہے۔ ہلدی میں بے پناہ غذائیت موجود ہے جس میں غذائی ریشہ، وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، پروٹین اور زنک شامل ہیں۔ ان تمام خصوصیات کی وجہ سے اسے کئی طبی امراض سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہلدی مندرجہ ذیل امرض سے بچاؤ میں مدد کرتی ہے:

کینسر

جی ہاں! ہلدی جسم میں کینسر ہونے سے روکتی ہے بلکہ یہ جسم میں سے کینسر سیل کو بھی ختم کردیتی ہے۔کئی تحقیقات سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ہلدی میں موجود اجزا کئی اقسام کے کینسر سے جسم کو محفوظ رکھتے ہیں۔ہلدی ٹی سیل لیوکیمیاT-cell leukemia، کولن کارسینوماسcolon carcinomas اور بریسٹ کارسینوماسbreast carcinomas جو کہ جسم میں کینسر پھیلاتے ہیں، کے خلاف ایک حفاظتی جلد بنا دیتی ہے۔

گٹھیا

سوزش ختم کرنے کی خصوصیت کے باعث ہلدی کو گٹھیا کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہلدی جسم سے ایسے عناصر کو مٹا دیتی ہے جس سے گٹھیا کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ جن لوگوں کے جوڑوں میں تکلیف رہتی ہو یا سوزش ہو ان کو اپنی غذا میں ہلدی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔

ذیابطیس

ہلدی کو ذیابطیس کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ جسم میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے اور ذیابطیس کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا اثر بڑھا دیتی ہے۔ہلدی کے مستقل ااستعمال سے ذیابطیس ٹائپ 2ہونے کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ البتہ اگر تیز ادویات کے ساتھ ہلدی کا استعمال کیا جائے تو خون میں شوگر کا لیول ضرورت سے زیادہ کم بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ذیابطیس کے مریض کو معالج کے مشورے سے ہلدی کا استعمال کرنا چاہیے۔

کولیسٹرول

تحقیقات کے مطابق اگر ہلدی محض کھانوں میں مسالحے کے طور پر ہی استعمال کرلی جائے تو اس سے کولیسٹرول لیول کنٹرول میں رہتا ہے۔ جسم میں کولیسٹرول کا تناسب سہی رکھنا جسم کو امراض قلب اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

چوٹ یا زخم

یہ ایک قدرتی اینٹی سیپٹک ہے جو کہ جراثیم مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے اگر کسی کو چوٹ لگ جائے تو اس کی چوٹ پر اکثر ہلدی کا لیپ لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں ہلدی ڈال کر پینے سے جسم کی قوت مدافعت بڑھتی ہے۔ ہلدی سے متاثرہ جلد ٹھیک ہوجاتی ہے۔

موٹاپا

ہلدی وزن کم کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ یہ جسم میں سے زائد چربی ختم کرتی ہے۔ وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد اپنے کھانوں میں اگر ایک چمچ ہلدی کا استعمال کریں تو انہیں وزن کم کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

اعصابی بیماریاں

دماغ کی سوزش اور الزائمرز جیسی بیماریوں کے لیے ہلدی مفید ہے۔ ہلدی دماغ کی مجموعی صحت کا خیال رکھتی ہے اور دماغ میں آکسیجن کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

جگر کی بیماریاں

ہلدی جگر کو صاف کرتی ہے۔ اس میں سے فضلہ کو خارج کرتی ہے۔ ہلدی سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔ یہ تمام عناصر جگر کی صحت اور تندرستی کے لیے مفید ہیں اور جگر کے بڑھتے ہوئے امراض سے بچاؤ کا طریقہ بھی۔

ہلدی کے ان گنت فوائد اور خصوصیات کے باعث اسے لازمی طور پر اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔ اسے گرم دودھ، کڑی، تلی ہوئی ڈشز اور سالاد میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔