سورہ الم نشرح کا وظیفہ کرنے والوں کی یہ بیماریاں ختم ہوجاتی ہیں

قرآن مجید کے ہر حرف میں ثواب و تاثیر شفا وبرکات ہیں ۔ایسے لوگ جو دنیاوی طور پر کافی پریشان رہتے ہیں ،ان کی یادداشت خراب ہوجاتی ہے،سینے پر بوجھ سا رہتا ،دل ذرا ذرا سی بات پر گھبرا جاتا ہے،انجانے خوف پریشان کرتے ہیں او رکاروبار یا نوکری پر جم کر نہیں بیٹھ پاتے،وسوسے کھائے رکھتے ہیں اور قوت ارادی کمزور ہوجاتی ہے۔

جو لوگ علم سے وابستہ ہیں اور ان کا ہر کام علوم کا محتاج ہوتاہے ،جیسے طالب علم،ڈاکٹر،وکیل وغیرہ تو ایسے تمام حضرات سے عرض ہے کہ وہ سورہ الم نشرح روزانہ اکیس بار پڑھا کریں ۔اوّل آخر درود پاک کے بعد سورہ الم نشرح کی تلاوت کرنے والوں پر ہر طرح کے مصائب کا سامنا کرنے کی ہمت بڑھ جاتی ہے،انکی رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔دل اور دماغ کھل جاتا ہے ۔دل کے مریضو ں کو دل پر اور ڈپریشن و وہموں میں رہنے والوں کو سر پر ہاتھ رکھ کر روزانہ گیارہ گیارہ بار یہ سورہ مبارکہ پڑھنی چاہئے۔انتہائی احسن عمل ہے

اچھا خاندان، اچھی شکل و صورت، اچھی معیشت دیکھنا شرعاً منع نہیں ہے، اگر یہ سب یا ان میں سے بعض میسر آجائیں تو بہت اچھا ہے، لیکن شریعت جس چیز کو ان سب پر مقدم رکھنے کا حکم دیتی ہے وہ دینداری ہے، اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ عزوجل نے عورت کے مزاج میں دوسروں کو ڈھالنے کی بجائے خود ڈھلنے کی صفت غالب رکھی ہے، یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی عورتیں لینے کی اجازت ہے، دینے کی نہیں، رشتہ طے کرتے وقت یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ نیک مردوعورت کا یہی دنیاوی نکاح قیامت کے روز جنت میں دائمی تعلق کی بنیاد بن جائے گا، لیکن اگر فریقین میں سے ایک نیک اور متقی ہو اور دوسرا اس کے برعکس ہو تو اس دنیا میں تعلق نبھانے کے باوجود آخرت میں یہ تعلق ٹوٹ جائے گا اور جنت میں جانے والے مرد یا عورت کا کسی دوسرے نیک عورت یا نیک مرد سے نکاح کردیا جائے گا، لہٰذا نکاح کے وقت اللہ عزوجل کا یہ ارشاد مبارک ضرور یاد رکھنا چاہیے۔

زمین سے ڈنڈا اُٹھا کر اپنے اُٹھا کر اپنے خاوند کو دیتے ہوئے بولی: لیجئے جی‘ آپ اپنا کام شروع کریں اور ادھر ادھر کی باتو ں پر اپنا دھیان نہ دیں۔

دلہن کو اس کے عروسی لباس میں ہی سات منٹ کے اندر ہسپتال پہنچادیاگیاجبکہ پولیس حکام نے بھی یہ یقینی بنایاکہ کم سے کم وقت میں ایمبولینس کو ہسپتال پہنچایاجائے ۔چینی روایات کے مطابق جب دلہن شادی کے مقام پر دولہے سے ملنے پہنچی تودولہے کی طرف سے شادی کی تقریب میں شریک مرد اس کا استقبال کرنے آگے آئے تاہم خاتون کو ہوامیں اچھالنے کے بعد واپس سہارادینے میں ناکام رہے جس سے دلہن سرکے بل زمین پر آگری ۔

منڈیم گوجرانوالہ ہے ہے۔جنرل منڈیم گوجرانوالہ ہے ہے۔جنرل قمرجاویدباجوہ کوئٹہ میں انفرینٹری اسکول میں انسٹریکٹر کے طور پر فراض سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی کمانڈ سنبھال چکے ہیں۔وہ راولپنڈی کی انتہائی اہم سمجھی جانے والی کور دہم کو بھی کمانڈ کرچکے ہیں۔ نئی تعیناتی سے قبل وہ انسپکٹر جنرل تھے۔ جی ایچ کیو میں جنرل ٹرینیگ اور ایولیوشین کے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں اُن تربیتی مشقوں کی خود نگرانی کی جو لائن آف کنٹرول کے اطراف کشیدگی کی وجہ سے کی جا رہی تھیں۔ اِن مشقوں کا معائنہ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل نے خود کیا تھا۔

چاہے وہ گندگی میں پلنے والے کیڑے ہوں یا اس کے ساتھیوں کا گند اور ان کے زخموں سے رسنے والا خون اور پیپ ہو یہ سب چیزیں وہ غذا کے طور پر استعمال کرتا ہے سور کے گوشت میں زہریلے مادے جزب کرنے کی استعداد ذیادہ ہوتی ہے کسی بھی اور جانور کے مقابلے میں سور کے گوشت میں زہریلے مادوں کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غذا میں سے زیادہ سے زیادہ مقدار میں زہریلے مادے جذب کرتا ہے سور کو پسینہ نہیں آتا اللہ رب العزت جو سارے جہاں کا خالق و مالک ہے اس سے ذیادہ اپنی تخلیق کے بارے میں کوئی نہیں جانتا مگر اب سائنس نے بھی اس بات کو ثابت کیا ہے کہ سور کو پسینہ نہیں آتا اس وجہ سے وہ تمام زہریلے مادے جو کہ پسینے کی صورت میں جسم سے خارج ہو سکتے ہیں وہ سور میں نہیں ہو پاتا اور اس کا زہر اس کے خون ہی میں جمع ہوتا رہتا ہے سور پر زہر اثر نہیں کرتا سور کے گوشت میں پہلے ہی زہر کی مقدار اتنی زیادہ ہوتی ہے

کہ اس کو مارنے کے لۓ اگر زہر دیا جاۓ تو وہ زہر اثر نہیں کرتا سانپ کے کاٹنے کا اثر نہیں ہوتا اکثر وہ کسان جو سور کو پالتے ہیں اس کو سانپوں کے بل کے پاس چھوڑ دیتے ہیں کیوںکہ یہ نہ صرف ان سانپوں کو کھا لیتا ہے بلکہ ان سانپوں کے کاٹنے سے ان کا زہر بھی اس پر اثر نہیں کرتا سور کا گوشت جلدی سڑنے لگتا ہے جب سور مر جاتا ہے تو بیکٹیریا اور دیگر حشرات زیادہ تیزی سے اس کے گوشت پر حملہ آور ہو کر اس کو دوسرے جانداروں کے مقابلے میں جلدی سڑا دیتے ہیں سور کا گوشت کسی بھی درجہ حرارت پر پکنے کی صورت میں جراثیم سے پاک نہیں ہوتا آج تک اس بات کا پتہ نہیں چلایا جا سکا کہ کس درجہ حرارت پر پکنے کے بعد مکمل طور پر اس کے گوشت میں موجود زہریلے مادوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے سور کے گوشت میں چکنائی کا تناسب بہت ذیادہ ہوتا ہے سور کے گوشت میں چکنائی کا تناسب کسی بھی دوسرے جانور کے گوشت کے مقابلے میں انتہائی ذیادہ ہوتا ہے جو انسانی صحت کے لۓ بہت خطرناک ہے سور کی کھائی گئی غذا بہت تیزی سے اس کے جسم کا حصہ بنتی ہے سور کا نضام ہاضمہ بہت تیز رفتاری سے کام کرتا ہے

اسی وجہ سے غذا انتہائی قلیل وقت یعنی صرف چار گھنٹوں میں اس کے جسم کے گوشت کا حصہ بن جاتا ہے اور چونکہ یہ انتہائی تیز رفتاری سے ہوتا ہے لہذا یہ گوشت غذائيت سے محروم ہوتا ہے سور میں تیس ایسی بیماریاں موجود ہوتی ہیں جو انسان میں فوری طور پر منتقل ہوتی ہیں سور میں تیس ایسی بیماریاں موجود ہوتی ہیں جو فوری طور پر انسان میں منتقل ہو سکتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ کی جانب سے سور کو چھونے سے بھی منع فرمایا گیا ہے سور کا گوشت کئی مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے سور انسان میں ٹایفائڈ، جوڑوں کے درد ، پتے کی بیماریوں اور دیگر کئی بیماریوں کا سبب